ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نوح تشدد: میوات کے لوگوں نے جنگ آزادی میں لیا تھا حصہ ، نائب وزیر اعلیٰ نے کہا؛ تشدد کی آگ بھڑکانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا

نوح تشدد: میوات کے لوگوں نے جنگ آزادی میں لیا تھا حصہ ، نائب وزیر اعلیٰ نے کہا؛ تشدد کی آگ بھڑکانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا

Wed, 02 Aug 2023 12:38:38    S.O. News Service

نوح، 2/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)  ہریانہ کے ضلع نوح (علاقہ میوات کا شہر) میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی یاترا کے دوران بھڑکنے والے تشدد پر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ دشینت چوٹالہ نے  کہا  ’’نوح مسلم اکثریتی علاقہ ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں ہندو اور مسلمان ایک عرصے سے امن و امان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ میوات کی ایک تاریخ ہے کہ یہ ہمیشہ دیانت اور اتحاد کے ساتھ رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب مغلوں نے حملہ کیا تو میوات کے لوگ اس وقت کے حکمرانوں کے خلاف کھڑے رہے اور آزادی کی جنگ بھی لڑی۔ آزادی کے بعد بھی مہاتما گاندھی کی درخواست پر یہاں کے لوگ پاکستان نہیں گئے اور یہیں رہ گئے۔‘‘ دشنیت چوٹالہ نے کہا  کہ ہندو تنظیموں کی جانب سے نوح میں منعقد کی گئی برج منڈل یاترا کے منتظمین نے ضلع انتظامیہ کو یاترا کے بارے میں مکمل معلومات نہیں دیں اور اسی  کوتاہی کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔

خیال رہے کہ میوات سے شروع ہونے والے تشدد نے گروگرام کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ منگل کی شام گروگرام میں کئی مقامات پر تازہ تشدد پھوٹ پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ دکانوں میں توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی گئی ہے۔

ڈپٹی سی ایم نے عوام سے اپیل کی  کہ  امن برقرار رکھیں۔ ہماری ریاست میں آج تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ اس واقعے کے پیچھے جو لوگ ہیں، جنہوں نے تشدد کو ہوا دی ہے، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ریاست میں حالات پرامن ہیں، گزشتہ 12 گھنٹوں میں کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ مرکز سے جو اضافی دستے موصول ہوئے تھے وہ کل ہی تعینات کر دیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ نوح میں ہندو تنظیموں کی جانب سے برج منڈل یاترا نکالی گئی اور  اس کا آغاز میوات کے شیو مندر کے سامنے سے کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس یاترا کے دوران پتھراؤ کیا گیا۔ بجرنگ دل کے کئی کارکن برج منڈل یاترا میں پہنچے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ مونو مانیسر نے پہلے ہی ویڈیو شیئر کر کے یاترا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنے کی اپیل کی تھی۔

مونو مانیسر نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ خود بھی یاترا میں شامل ہوگا لیکن وہ  یاترا میں شامل نہیں ہوا۔ رپورٹ کے مطابق یاترا میں بٹو بجرنگی نام کے ایک مبینہ گئو رکشک کے شامل ہونے کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوئی۔

خیال رہے کہ مونو مانیسر ناصر اور جنید قتل کیس میں ملوث بتایا گیا تھا۔ مگر اس کے تعلق سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ  کھلے عام گھوم رہا ہے  اور اشتعال انگیز تقریریں سوشیل میڈیا پر پوسٹ کرکے لوگوں کے اندر اشتعال دلانے کے کام میں لگا ہوا ہے۔ 

یاد رہے کہ  16 فروری کو ہریانہ کے بھیوانی میں لوہارو کے بارواس گاؤں کے قریب ایک جلی ہوئی بولیرو میں دو ڈھانچے برآمد ہوئے تھے۔ ہلاک شدگان کی شناخت ناصر (25) اور جنید (35) کے طور پر ہوئی تھی۔ مونو مانیسر کو ان دونوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔


Share: